سلطان محمودآشفتہ
نصف صدی کا سفر
سلطان محمود آشفہ کی کہانی ایک جیتے، جاگتے اور سوچتے انسان کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی امید کا دیا بن کر گزاری ۔ پنجاب کے دل لاہور میں جب ان کی آنکھ کھلی تو دنیا دوسری بڑی جنگ کی لپیٹ میں تھی۔ لیکن لاہور نے اس ماحول میں بھی اپنا ایک محاذ کھولا ہوا تھا۔ جنگ نے لاہور کی ادبی اور فنی سرگرمیوں پر مہمیز کا کام کیا تھا ۔ لاہور اُردو ادب اور مسلم سیاست کا سب سے بڑا مرکز بنتا جا رہا تھا۔ ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ جنگ، سامراج، غربت، مزدوروں کی زندگی اور آزادی جیسے موضوعات ادب میں نمایاں ہو گئے تھے۔ ریڈیو نے پوری دنیا کی خبریں گھر گھر پہنچانی شرع کر دی تھیں۔ دنیا تیزیسے بدل رہی تھی ۔ اہل دانش جوابوں کے لئیے مغرب کی طرف دیکھ رہے تھے۔
اس ماحول میں آنکھ کھولنے والے سلطان محمود کے قلم نے بہت چھوٹی عمر میں بولنا شروع کر دیا۔ جہاں لوگ باہر کی دنیا سے متاثر ہو رہے تھے سلطان محمود نے باہر کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے اندر کی طرف دیکھا اور اپنی ثقافت کی خوبصورتی اور دانائی کو محسوس کیا۔آشفتہ تخلص کیا اور اردو کی طرف بھاگتے لاہور کو اپنی ماں بولی کی یاد دلانے کے لئیے تحریک کی بنیاد رکھی اور پنجابی زبان کو اپنی آواز بنا لیا۔ پنجاب کے صوفی شاعروں کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے انسانی کیفیت پر پنجابی زبان کی خوبصورت ترین نظمیں لکھیں۔ جن کے موضوع نئے زمانے کے ہیں پرزبان کلاسیکی پنچابی کی چاشنی میں بھیگی ہوئی ہے۔ پنجابی زبان اور پنچاب کی ثقافت کو زندہ رکھنے میں سلطان محمود آشفتہ کا کردار یادگارہے ۔
صوفی سوچ اور پنچاب کا دل رکھنے والے سلطان محمودآشفتہ نے دو دفعہ سر زمیں حجاز کا سفر کیا اورروحانی سوچ نے مذہب کی بنیاد کو پہچانا۔ اس خوبصورت امتزاج سے ایک ایسے سفر کا آغاز ہوا جو پنچابی فلموں اور شہرت کی بلندیوں سے ہوتا ہوا روحانیت کی وادی میں اتر گیا۔ اس سفر نے بے شمار دلوں کو چھوا اور ان گنت زندگیوں کو سیراب کیا۔ یہ اسی سفر کی کہانی ہے ۔
← مکمل سوانح پڑھیں