عکسِ دل
خیال جب دل کے درپے رہتا ہے تو لفظ خود بخود راستے بناتے ہیں۔ شاعری شاید اسی کی تصویر ہے، جب ایک احساس کو زبان ملتی ہے، ایک خاموشی آواز بن جاتی ہے اور ایک گزر اہوا لمحہ ہمیشہ کے لیے لفظوں میں محفوظ ہو جاتا ہے۔
شاعر کے لیے دنیا صرف وہ نہیں جو آنکھ دیکھتی ہے؛ وہ بھی ہے جو دل محسوس کرتا ہے۔ بارش کی ایک بوند میں برسوں کی یاد، کسی خاموش چہرے میں ایک پوری داستان اور کسی اجنبی راستے میں اپنے ہی وجود کی تلاش دکھائی دے سکتی ہے۔ یہی عکس خیال ہے۔ ایک ایسا عکس جو آئینے میں نہیں، انسان کے اندر بنتا ہے۔
شاعری دراصل سوال بھی ہے اور جواب بھی۔ یہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔ کبھی محبت کی نرم روشنی بن کر دل کو چھوتی ہے، کبھی جدائی کی دھند میں راستہ تلاش کرتی ہے، اور کبھی روح کے کسی خاموش گوشے میں جا کر ٹھہر جاتی ہے۔
خیال کا سفر کبھی سیدھا نہیں ہوتا۔ ایک خیال دوسرے خیال کو جنم دیتا ہے، ایک یاد دوسری یاد کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ اسی سفر میں شاعری جنم لیتی ہے۔ شاعر اپنے تجربات کو صرف حرفِ بیان نہیں کرتا، انہیں ایک نئی صورت عطا کرتا ہے۔ اس لیے ایک شعر پڑھنے والا ہر شخص اس میں اپنا مطلب، اپنی یاد اور اپنا ڈھال تلاش کر لیتا ہے۔
شاعری کی خوبصورتی شاید یہ ہے کہ وہ مختصر لفظوں میں ایک پوری دنیا آباد کر دیتی ہے۔ دو مصرعے کبھی برسوں کی مسافت سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک استعارہ پوری زندگی کا مفہوم بدل دیتا ہے اور ایک خاموش شعر انسان کو دیر تک اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
آشفتہ کے کلام میں بھی یہی احساس نمایاں ہوتا ہے کہ لفظ صرف کہنے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں خیال، تجربہ اور جذبہ ایک دوسرے سے جڑ کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جہاں قاری صرف شعر نہیں پڑھتا بلکہ اسے اپنے اندر سے گزرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔